Articles

بانی درس نظامی

بانی درس نظامی

نام و نسب: استاذ الہند مولانا نظام الدین محمد بن ملا قطب الدین شہید بن عبد الحلیم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی ولادت والد گرامی ملا قطب الدین کی شہادت ۱۱۰۳ھ سے چودہ سال بیشتر ۱۰۸۹ھ بمقام سہالی میں ہوئی۔

حصول علم: ملا نظام الدین کی تعلیم کا آغاز شفیق باپ کی درسگاہ سے ہوا، اور شرح ملا جامی تک والد بزرگوار سے پڑھی، والد کی شہادت کے بعد دو سال تک ابتری کا ماحول رہا، جب خاندان کی مستقل سکونت فرنگی محل لکھنو میں ہو گئی تو آپ تحصیل علم کی غرض سے علم و دانش کے چشمہ صافی کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے ، اور تقریبا دس سال تک متعدد ماہرین علم و فن اساتذہ کی درسگاہوں میں تحصیل علم کرتے رہے ، دیوہ، بنارس، جائس، اور لکھنو میں علوم نقلیہ و فنون عقلیہ کا درس لیا، جائس میں ملا علی قلی جانسی، بنارس میں ملا قطب شہید کے فیض یافتہ ملا امان اللہ بنارسی سے ”شرح مواقف “ اور بعض دوسری کتابیں پڑھیں لکھنو پیر محمد شاہ کی خانقاہ میں مولانا قاضی غلام نقشبند گھوسوی ثم لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ سے فن ہیئت کی آخری کتاب رسالہ قوشجیہ پڑھی۔

مشہور تلامذہ: ذیل میں کچھ مشاہیر تلامذہ کے نام درج کیے جاتے ہیں جن کا تعلق خاندان نظامی یا ان کے اعزہ واقربا اور دیگر مقامات سے ہے۔ میراں کمال الدین بھتیجے ملا غلام محمد مصطفیٰ احمد عبد الحق، عبد العزیز ، ملا کمال الدین، ملا بحر العلوم عبد العلی بن ملا نظام الدین ، ملا حسن، ملا محمد ولی، شاہ شاکر اللہ۔

مشهور استاذه: والد گرامی قطب الدین شہید، مولانا قطب الدین شمس آبادی، مولانا غلام نقشبند ، ملا امان الله بنارسی۔

درس و تدریس: ملا نظام الدین سہالوی نے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد فرنگی محل ہی میں اپنی درسگاہ قائم کی اور استاذ الہند کی بارگاہ میں شہر لکھنو اور قرب و جوار ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے کونے کونے سے تشنگان علوم و فنون آتے رہے اور علم و فضل کے اس چشمہ شیریں سے اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ یہ درسگاہ فضیلت مآب تقریباً پچاس سال تک علوم و معارف کی محمد تنویروں سے اذہان و قلوب کو روشن کرتی رہی، اور درسگاه نظامی کے بیرونی طلبہ کا قیام پیر شاہ کی عمارتوں میں ہوتا۔ جن کے جملہ اخراجات شاہی خزانے سے ادا کیے جاتے۔

علمی مقام: مولانا یٰس اختر مصباحی لکھتے ہیں: وہ ( ملا نظام الدین محمد سہالوی، فرنگی محلی) مولانا شہید ( قطب الدین سہالوی) کے بیٹوں میں ، وحید عصر، فرید دہر اور جامع علوم ظاہر و باطن تھے۔ ان ( ملا نظام الدین محمد سہالوی) کی تدریس کے مقابلے میں اس علاقہ کے تمام علما و مدرسین کی درس گاہیں سرد تھیں۔ مشرق و مغرب اور دور دراز کے قصبات سے لوگ ان کے پاس آتے اور تعلیم حاصل کرتے۔ بر صغیر ہند ( موجودہ ہندوستان و پاکستان و بنگلہ دیش۔ مصباحی) میں شاید ہی کوئی ہوگا جو ان کا یا ان کے بیٹوں کا یا ان کے شاگردوں یا کا شاگرد نہ ہوں معقولات و منقولات میں مبسوط کتابیں لکھیں۔

بیعت کا انوکھا واقعہ: استاذ الہند کے والد بزرگوار اور دونوں برادران بزرگ سلسلہ چشتیہ میں بیعت ہوئے تھے ، آپ کو رشتہ ارادت استوار کرنے کے لیے مرشد کامل کی تلاش تھی ، اس دور میں پیران طریقت کی کمی نہ تھی لیکن ان کی طرف رغبت خاطر نہ ہوتی کیوں کہ روحانی نسبت و نعمت تو بانسہ سے متعلق تھی، آپ کے بھتیجے ملا احمد عبد الحق بھی مرشد کامل کی جستجو میں تھے ، چچا اور بھتیجے دونوں کا ذوق طلب نقطۂ شباب پر تھا کہ ایک رات دونوں نے یہ خواب دیکھا کہ محبوب سبحانی سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روحانی در بار منعقد ہے، جہاں خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف فرما ہیں، چچا، بھتیجے نے خود کو دیکھا کہ دونوں مجلس کے باہر دست بستہ کھڑے ہیں، پیران پیر دستگیر نے خواجہ خواجگان سے فرمایا: “آپ ان دونوں کو ہمیں سے دیں” حضرت خواجہ غریب نواز نے ملا نظام الدین اور ملا احمد عبد الحق کا ہاتھ پکڑ کر غوث پاک کے سامنےحاضر کر دیا حضرت نے ان دونوں کو ایک بزرگ کے ہاتھوں میں دے دیا جو حضرت نے ان دونوں کو ایک بزرگ کے ہاتھوں میں دے دیا جو پس پشت کھڑے تھے، دونوں نے اس بزرگ کی صورت غور سے دیکھی اور ذہن نشیں کر لی۔ صبح ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے سے اپنا اپنا خواب بیان کیا جو یکساں تھے ، ملا صاحب نے فرمایا کہ ہماری اور تمہاری قسمت میں انھیں بزرگ سے مرید ہونا لکھا ہے ، کچھ دنوں بعد حضرت سید عبد الرزاق بانسوی رحمۃ اللہ علیہ لکھنو تشریف لائے ، آپ کی آمد کا چرچا ہوا تو دونوں حضرات بارگاہ میں حاضر ہوئے ، دیکھا تو یہ وہی بزرگ تھے جن کے ہاتھ میں غوث پاک نے ان دونوں کو سونپا تھا، گوہر مقصود ہاتھ آ چکا تھا۔ چناں چہ پوری عقیدت و ارادت کے ساتھ دونوں نے شیخ عبد الرزاق بانسوی کے دست حق پرست پر سلسلہ قادریہ میں بیعت کی اور مرشد بر حق کے رنگ و آہنگ میں ڈھل کر اپنی عالمانہ وجاہت کو آستانہ مرشد پر قربان کر دیا۔

وصال: استاذ الہند عنفوان شباب ہی سے قرحہ مثانہ کی تکلیف میں مبتلا رہنے لگے تھے مگر صبر و تحمل سے کام لیتے اور کسی پر اس سخت آزار کا اظہار نہ کرتے لیکن جب مرشد برحق سے وابستہ ہوئے تو حضرت کی دعا سے شفا حاصل ہو گئی، آپ خودار شاد فرماتے ہیں: مجھے قرحہ مثانہ کی تکلیف میں دیکھ کر حضرت سید صاحب پر شفقت و رحم کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے اس کے بعد فرمایا: خبر دیت خبر دیت ( خبر دیتا ہے خبر دینے والا ) کہ بسم الله الرحمن الرحيم لا اله الا الله بسم الله الرحمن الرحيم وانت ارحم الرحمين پڑھ کر ہاتھوں کو اس طرح پھیلائے جس طرح دعا میں پھیلاتے ہیں اور ہتھیلیوں پر پھونکے پھر چہرہ ، سر اور پورے جسم پر ہتھیلیوں کو پھیرے ان شاء اللہ صحت ہو جائے گی۔ اس درد پر اسی طرح عمل کیا جس طرح حضرت سید صاحب نے ہدایت فرمائی تھی، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سخت تکلیف سے جس میں کمی آنے کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی، نجات حاصل ہو گئی اور سابق میں جو مزاجی حالت رہتی تھی وہی عود کر آئی، الحمد لله على ذلك

جب حضرت کی عمر ستر سال کی ہوئی تو قرحہ مثانہ کا مرض شدت کے ساتھ لوٹ آیا ضعف و نقاہت کی وجہ سے کمر جھک گئی اور صاحب فراش ہو گئے، مرض الموت میں لوگ بڑی تعداد میں عیادت کے لیے حاضر ہوتے ، مرض بڑھتا رہا یہاں تک کہ ٩ جمادی الاولی بروز چہار شنبه ١١٦ھ مطابق ٢٦ اپریل ١٧٤٨ء کو علم و فضل ، دیانت و تقویٰ کا آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ فرنگی محل سے ایک میل کے فاصلے پر باغ ملا صاحب میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔

تصانيف: استاذ الہند ملا نظام الدین نے اپنے علمی فیوض کو درس و تدریس ہی تک محدود نہ رکھا بلکہ اپنے علمی تجربات اور فنی شاہکاروں کو صفحہ قرطاس کی زینت بھی بنایا، آپ کی تصانیف کے موضوعات علمی و فنی حیثیت سے اصول فقہ ، کلام، فلسفہ ، سیر اور حدیث ہیں۔
شرح مسلم الثبوت، شرح منا رسمی به اصبح الصادق، حاشیه شرح عقائد جلالی، حواشی قدیمه جلالیه بر حاشیه، شرح رساله مبارزيه في العقائد الاسلامیه، رساله حاشیه صدرا، در بیان وضو مسنون، حاشیه شمس بازغه

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *