امام اہل سنت پر ایک نظر

محمد نعمان اختر مصباحی
ولادت باسعادت: آپ کی پیدائش بریلی شریف کے محلہ جسولی میں ١٠ شوال المکرم ١٢٧٢ھ مطابق ١٤ جون ١٧٥٦ء کو ہوئی، آپ کا نام محمد ہے اور دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے جبکہ سن پیدائش کے اعتبار سے آپ ۔کا نام اَلْمُختار (١٢٧٢ھ) ہے۔
بچپن کی شاندار جھلکیاں: ربیع الاول ١٢٧٦ھ / ١٨٦٠ء کو تقریباً ٤ سال کی عمر میں ناظرہ قرآن پاک ختم فرمایا اور اسی عمر میں فصیح عربی میں گفتگو فرمائی۔ ربیع الاول ١٢٧٨ھ / ١٧٦١ء کو تقریباً 6 سال کی عمر میں پہلا بیان فرمایا۔ ١٢٧٩ھ / ١٧٦٢ء کو تقریباً 7 سال کی عمر میں رمضان المبارک کے روزے رکھنا شروع فرمائے۔ شوال المکرم ١٢٨٠ھ / ١٨٦٣ء کو تقریباً ٨ سال کی عمر میں مسئلۂ وراثت کا شاندار جواب لکھا۔ ٨ سال ہی کی عمر میں نحو کی مشہور کتاب ہدایۃ النّحو پڑھی اور اس کی عربی شرح بھی لکھی۔ شعبان المعظم ١٢٨٦ھ / ١٨٦٩ء کو ١٣ سال ٤ ماہ اور ١٠ دن کی عمر میں علوم درسیہ سے فراغت پائی، دستار فضیلت ہوئی، اسی دن فتویٰ نویسی کا باقاعدہ آغاز فرمایا اور درس وتدریس کا بھی آغاز فرمایا۔
اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ: امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ہزاروں فتاویٰ تحریر فرمائے ہیں، چنانچہ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ١٣ سال ١٠ ماہ ٤ دن کی عمر میں پہلا فتویٰ ”حرمتِ رضاعت“ پر تحریر فرمایا تو آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی فقاہت دیکھ کر آپ کو مفتی کے منصب پر فائز کر دیا، اس کے باوجود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کافی عرصے تک اپنے ابو جان سے فتاویٰ چیک کرواتے رہے اور اس قدر احتیاط فرماتے کہ والد صاحب کی تصدیق کے بغیر فتویٰ جاری نہ فرماتے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ١٠ سال تک کے فتاوی جمع شدہ نہیں ملے، ١٠ سال کے بعد جو فتاوی جمع ہوئے وہ “العطایا النبویہ في الفتاوی الرضويه “ کے نام سے ٣٠ جلدوں پر مشتمل ہیں یہ تقریباً بائیس ہزار صفحات پر مشتمل ہیں اور ان میں چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس سوالات کے جوابات، دو سو چھ رسائل اور اس کے علاوہ ہزارہا مسائل ضمنا زیر بحث بیان فرمائے ہیں ۔
کلام اعلیٰ حضرت کی شان: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا کلام قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ آپ کی لکھی ہوئی ایک ایک نعت فنِ شاعری میں بھی درجہ کمال پر ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی محبت سے اعلیٰ حضرت کے جسم کا رواں رواں لبریز تھا، اسی طرح آپ کی نعتیہ شاعری کا ہر ہر لفظ بھی عشق رسول میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ آج تقریباً سو سال گزرنے کے باوجود بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے لکھے ہوئے اشعار دلوں میں عشقِ رسول پیدا کرتے اور یادِ محبوب ﷺ میں تڑپا دیتے ہیں۔ مشہور زمانہ نعتیہ کتاب’’حدائقِ بخشش‘‘ میں ایک قول کے مطابق ٢٧٨١ اشعار ہیں۔
اعلی حضرت پہلے مسلم سائنسداں ہیں جنہوں نے وضو اور غسل پر ایک چھوٹے سے سوال کے جواب میں physics کے موضوع پر اپنی کتاب “الدکۃ و الطبیان” ١٩١٥ء میں لکھ کر جدید سائنسی اور فقہی انداز سے تحقیق کے انمول موتی بکھیرے اور پانی کے ٣٠٧ اقسام بیان کر کے بڑے بڑے سائنسدانوں کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا۔
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امن و سکون کی زندگی گزارنے کاسلیقہ اور طریقہ دونوں سکھایا ہے آج اگر موجودہ دور میں اس پر عمل کریں تو مکمل معاشرہ جہالت و لاعلمی کے دلدل سے نکل کر عروج و ارتقاء کی نئی نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے نیز آنے والی نسلوں کے لئے بھی فلاح وظفر لائق تقلید تاریخ مرتب کر سکتا ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت کا پیغام یہی ہے کہ امن وسلامتی، صلہ رحمی، انسانی دوستی، باہمی اتحاد و اتفاق کے درس کو عام کیا جائے اور آپسی صلح، باہمی محبت کا ایسا ماحول تیار کیا جائے کہ جس سے صرف اور صرف ملت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کی اصلاح و تریبت کی فضا پر امن طریقے سے ہموار ہو اور دیگر اقوام بھی حلقہ اسلام میں جوق در جوق شامل ہوں۔
ہم امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے امن بخش ارشادات وفرمودات کی تبلیغ و ارسال کی جانب توجہ مبذول کرنے اور امام اہل سنت اعلیٰ حضرت کے نا چاہنے والوں کو کشادہ قلبی کے ساتھ آپ کی سیرت طیبہ پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ آپ کے علمی، فقہی، روحانی، فیوض وبرکات سے مالامال ہو سکیں۔
وصال مبارک: ١٣٤٠ھ/٢٥ صفر المظفر بروز جمعہ آپ کا وصال پرملال ہوا۔ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی وفات سے ٤ ماہ ٢٢ دن پہلے خود اپنے انتقال کی خبر دے دی تھی، آپ نے اپنے صاحبزادے مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمہ کو اپنی حیات ہی میں اپنا جانشین مقرر فرمایا اور اپنی نماز جنازہ پڑھانے کی وصیت فرمائی چنانچہ مولانا حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ہی آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

Books