Articles

قرآن اور سائنس


مفتی محمد رضا قادری نقشبندی مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ

تقسیم معجزہ: معجزہ کی دو قسمیں ہیں (۱) حسی جیسے چاند کا دو ٹکڑے کرنا (۲) معنوی جیسے قرآن مقدس، نیز معجزہ کبھی وقتی ہوتا ہے اور کبھی کچھ مدت کے لیے اور کبھی ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے جیسے قرآن مجید ۔

قرآن مجید باعتبار وجوه اعجاز تین قسموں پر ہے:

(۱) زبان: ہر نبی اپنے اپنے دور میں وہ چیزیں ساتھ میں لے کر آئے جو اس دور کی قوم کے لیے سب سے اہم اور سبب تفاخر ہو، مثلا: دور موسوی میں جادو گری ، اور سحر و طلسم ، اور صالح علیہ السلام کے دور میں سنگ تراشی کر کے جانور بنانا، اور ہمارے نبی جس زمانے میں تشریف لائے وہ زبان و ادب کا دور تھا، اہل عرب اپنے کو فصاحت و بلاغت کا تاجور سمجھتے تھے ، نبی آخر الزماں ، قرآن مقدس لے کر آئے جو تمام فصحا و بلغاے عرب کے تاجور ثابت ہوئے، جس نے لسانی عروج و کمال کی چوٹی پر رہنے والوں کو چیلنج کیا، ام يقولون افتراه قل فأتوا بعشر سور مثله مفتربات وادعو من استطعتم من دون الله (هود، ۱۳) قرآن مجید کے مثل دس سورتیں لے آؤ اور خدائے تعالیٰ کے علاوہ اپنے ہمنواؤں کو بھی جمع کر لو ، جب وہ دس آیتیں بھی نہ لا سکے تو قرآن مجید نے پھر دوبارہ چیلنج کیا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مثله ( البقرہ، (۲۳) اس کے مثل ایک ہی آیت لے آؤ۔ مگر وہ اہل زبان ہونے کے باوجود ایک آیت لانے سے بھی قاصر رہے۔

بعض لوگوں نے کلام الہٰی کی فصاحت و بلاغت اور اس کے کلام الہٰی ہونے کا انکار بھی کیا، مثلا ولید بن مغیرہ، عبد اللہ بن مقفع، بالآخر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ اعجاز قرآنی کا مشاہدہ کر کے خود انھیں حیرت ہوئی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے دیکھا کہ ایک اعرابی آیت کریمہ: فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ پڑھ کر سجدہ ریز ہو گیا ہے۔ ولید بن مغیرہ نے کہا کیوں سجدہ میں گرے ہو اس نے جوابا کہا آیت مقدسہ کی فصاحت و بلاغت کو سجدہ کر رہا ہوں، اس وقت اسے حیرت ہوئی۔ جب عبد اللہ بن مقفع نے ایک بچے سے یہ آیت سنی تو اس پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ آیت کریمہ یہ تھی : وَ قِيلَ يُأَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَ يٰسَمَاءُ أَقْلِعِي وَ غِيضَ الْمَاءُ

(۲) ثانی ماضی کی خبریں : یعنی حضور ﷺ کا بغیر پڑھے لکھے ہزاروں سال قبل کی خبر دینا یہ عقل کو عاجز کرنے والا امر ہے ، ان اخبار قرآنیہ پر مستشرقین کا اعتراض ہے ، ان کا یہ دعوی ہے مثلا گولڈ زیہر مصنف “العقيدة و الشریعة فی الاسلام “ کا کہ کلام اللہ جسے ہم مانتے ہیں وہ خدا کا کلام نہیں، اور اس پر گھٹیا اور رذیل دلیلیں دیں کہ ماضی کی جو خبریں قرآن میں ہیں وہ یا تو توریت و انجیل سے ماخوذ ہیں یا پھر گڑھی ہوئی باتیں، کیوں کہ یہ لوگ نبی کو امی نہیں مانتے، بلکہ عالم تسلیم کرتے ہیں، اور بطور دلیل حضور کے سفر شام وغیرہ کو پیش کرتے ہیں اور جو خبریں ماقبل کی کتابوں میں نہیں ہیں، مثلا قوم لوط کے بارے میں ” وَ جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِيلٍ فرعون کے بارے میں فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لتكون لمن حملتک آیة“ ان کو گڑھی ہوئی کہتے ہیں، مگر سو سال قبل جب زمینی تحقیقات کے ماہرین نے (Dead Sea) (یہ جارڈن اور اسرائیل کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے ) سے دور ایک پتھر کی دریافت کی جس پتھر کے ذرات خاکی نہیں تھے بلکہ آسمانی تھے یونہی مصر میں جب ایک جگہ ۱۵ یا ۲۰ لاشیں برآمد ہوئیں جس میں ایک لاش “رسِش” (زمانہ موسوی کا فرعون ) کی تھی تو ان آیتوں پر لگائے ہوئے الزامات دفع ہو گئے۔

(۳) متقبل کی خبریں : مثلا قیصر روم پر کسریٰ کے حملہ کی خبر، اس کی تائید میں الم غُلِبَتِ الرُّوْمُ اور سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ جیسی آیتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

قرآن اور سائنس: در حقیقت قرآن مجید اصل ہے اور سائنس فرع ، مگر تطبیق کے وقت چند امور کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے: (۱) زمانہ نزول میں معانی الفاظ کیا تھے (۲) موضوع سے متعلق تمام آیتوں کو جمع کیا جائے (۳) نحو و صرف میں خاصہ “درک”۔

جو لوگ قرآن کو فرع اور سائنس کو اصل سمجھتے ہیں اور قرآن میں وہ باتیں نہیں تلاش کر پاتے جو سائنس میں ہیں وہ بے جا قرآن میں تاویل کرتے ہیں، مثلا ”جوہر طنطاوی“ نے سَبْعَ سَمواتِ طِبَاقًا کی تاویل سات سیارے سے کی ہے جب کہ بعد میں تحقیق ہوئی کہ سیارے ٩ ہیں پھر بعد میں ۱۲ کا قول سائنس دانوں نے کیا، یونہی بعض لوگوں نے کہا کہ و يَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ سے فون کی طرف اشارہ ہے اور والبحر المسجور سے عین مسجور مراد ہے وغیرہ۔

قرآن اور سائنس میں صحیح موافقت: اس کی مثالیں یہ ہیں: (۱) وَ مَنْ يُرِدُ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَدُ فِي السَّمَاءِ ، جب اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا دل تنگ فرما دیتا ہے گویا وہ آسمان میں چڑھ رہا ہے ، اور سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ جب انسان آسمان کی طرف چڑھتا ہے تو اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔

(۲) وَ جَعَلْنَا لَكُمُ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ میں پہلے سمع، پھر بصر پھر فواد کا ذکر ہے ایسی ترتیب کیوں ہے تو سائنس بھی اس کے بارے میں یہی کہتی ہے کہ پہلے کان تیار ہوتا ہے پھر آنکھ ، پھر دل۔

(۳) شہد کی مکھی کے تعلق سے ہے: وَ اوْحٰى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا يَعْرِشُونَ ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا ۔ خیال رہے کہ آیت کریمہ میں کلی، فاسلکی بصیغہ تانیث خطاب ہے جب کہ چھتوں میں مذکر بھی ہوتے ہیں۔ سائنس نے بہت ہی تحقیق کے بعد یہ بتایا کہ پورے چھتہ میں صرف ایک مذکر ہوتا ہے بقیہ سارے مادے اور مؤنث ہوتے ہیں۔ یہ وہ آیتیں ہیں جن سے سائنس ملتی جلتی ہے اور یہ ساری باتیں سائنس کے وجود سے ہزار سال قبل ہی قرآن میں موجود ہیں۔

قرآن اور سائنس میں اختلاف کے وقت: جہاں قرآن اور سائنس میں اختلاف ہو وہاں ہم یہ دیکھیں گے کہ یہ سائنسی انکشاف ظنی ہے یا حقیقی، اگر ظنی ہے تو سائنس کو چھوڑ دیا جائے گا، جیسے انسان کا وجود بندر سے ہے ، اور اگر حقیقی ہے تو قرآن میں تاویل کی جائے گی جیسا کہ امام رازی نے وَ جَعَلْنَا لَكُمُ الْأَرْضَ بساطا میں تاویل کی ہے؛ کیوں کہ صارف قطعی کی وجہ سے قرآن میں تاویل جائز ہے کیوں کہ امر واقعی اور حقیقی صارف قطعی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *