اسلام، جدید سائنس کا موجد

مفتی محمد رضا قادری نقشبندی مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
اگر میں یہ کہوں کہ اسلام ہی جدید سائنس کا موجد ہے تو اس میں مبالغہ کی کوئی بات نہیں۔ یہ بات آج ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے اور عصر حاضر کے بڑے بڑے مفکرین نے بر ملا اس کا اعتراف بھی کیا ہے ، اے ہمبولٹ (1859-1769 A. Humboldt) نے کہا: یہ دراصل عرب ہیں جن کو صحیح معنوں میں فزکس کا بانی سمجھا جانا چاہیے “It is the Arbs who should be regarded as the real founder’s physics”
اللہ عز و جل کی اس وسیع و عریض اور حسین و جمیل کائنات میں اس کی قدرت کے ہزاروں جلوے اور لاکھوں نشانیاں ہر سو بکھری پڑی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ اس خوب صورت کائنات کا ضرور کوئی خالق ہے ، ورنہ صبح و شام کا آنا اور جانا، شمس و قمر اور کروڑوں سیارگان فلکی کا اپنے اپنے مدار میں مقررہ اوقات کے حساب سے گردش اور ہر ایک کے درمیان مناسب نظم و ارتباط اس طور پر کہ ایک سیارہ دوسرے سیارہ سے ٹکراتا نہیں یہ سب کسی خالق کے بغیر کیوں کر ممکن ہے !
قرآن مجید نے پہلی بار بنی نوع انسان کو انفس و آفاق کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کا حکم دیا۔ انسان کے خوابیدہ احساسات و ادراکات کو جھنجھوڑا اور بیدار کیا۔ فرمایا: افلا تتفكرون، افلا تتدبرون، افلا تعقلون افلا تنظرون، افلا تبصرون تم عقل و شعور اور بصیرت و بصارت سے کیوں نہیں کام لیتے ؟
پہلی بار انسان کی قوت متخیلہ اور فکریہ کو مخاطب بنا کر اس کائنات میں غور و فکر کرنے بہت فڈکا حکم دیا اسی تدبر و تفکر کا فیض تھا کہ دنیا کی اجڈ ترین قوم (عرب) خدائی احکام پر عمل پیرا ہونے کے بعد محض ایک صدی کے اندر اندر دنیا بھر کی امامت و قیادت کی حقدار ٹھہری اور اس نے دنیا کو یونانی فلسفہ کی لاحاصل موشگافیوں سے آزاد کرتے ہوئے فطری علوم کو تجربے (Experiment) کی بنیاد عطا کی۔
آج سے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال پہلے بنی نوع انسان کے ذہن میں علم کے موجودہ عروج و ارتقا کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ذہن و فکر پر ارسطو کا فلسفہ، بطلیموسی اور فیثاغورسی نظریات چھائے ہوئے تھے۔ ایسے وقت میں اسلام کی آفاقی تعلیمات نے دور جاہلیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے ہزارہا ایسے فطری ضوابط کو بے نقاب کیا جن کی صداقت پر عصر حاضر کا سائنسی ذہن بھی محو حیرت ہے۔ قرون وسطیٰ میں مسلم سائنس دانوں نے جو نمایاں کارنامے انجام دیے اور جن سائنسی علوم اور ٹکنالوجی کی فصل بوئی تھی آج وہ پک کر جوان ہو چکی ہے اور آج کی دنیا اس کاشت کی گوناں گوں فصلوں سے فیضیاب ہورہی ہے۔
اسلام اور چاند کا سفر: امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ (Neil Armstrong) پہلا انسان ہے جس نے چار روزہ خلائی سفر کے بعد ۲۰ جولائی ١٩٦٩ء کو چاند پر اپنا قدم رکھا اور وہاں پہنچ کر اس نے یہ تاریخی الفاظ کہے : کہ ایک انسان کے لیے یہ ایک چھوٹا قدم ہے مگر انسانیت کے لیے وہ ایک عظیم چھلانگ ہے۔ “That’s one small step for a man, one grant leap for mankind”
امریکہ کے خلائی تحقیقاتی اداره ناسا (National Aeronautic Space Agency) کے تحت تین سائنس دانوں کے ذریعے تسخیر ماہتاب کا یہ عظیم ترین واقعہ پیش آیا۔
آرم اسٹرانگ اور ان کے ساتھی ایڈون آلڈرن (Edwin Aldrin) اور مائکل کولنس (Michal Collins) نے ایک مخصوص راکٹ اپالو ( 11 Apollo) پر سفر کیا اور آخری مرحلہ میں ایک چاند گاڑی کے ذریعہ سطح ماہتاب پر اترے۔ یہ برق رفتار راکٹ اور کمانڈ ماڈل گاڑی فطرت کے محکم قوانین کے تحت بنی ہوئی سائنسی مشینیں تھیں اور ان خلا بازوں نے انھیں قوانین فطرت کو استعمال کر کے یہ پورا خلائی سفر طے کیا۔
یہاں غور طلب پہلو یہ ہے کہ فطرت کا یہ قانون ہماری دنیا میں لاکھوں سال سے موجود تھا مگر اس سے پہلے انسان کبھی یہ سوچ نہ سکا کہ وہ فطرت کے اس قانون کو جانے اور اس کو استعمال کر کے چاند تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
فطری امکانات کے باوجود چاند تک پہنچنے میں تاخیر کا سبب کیا تھا ؟ وہ سبب شرک تھا، یعنی مخلوق کو معبود سمجھ کر اس کی پرستش کرنا۔ قدیم زمانہ میں لوگ مظاہر فطرت کو معبود سمجھ کر انھیں پوجتے تھے ، ساری دنیا میں شرک کا عقیدہ چھایا ہوا تھا، روشن آفتاب و ماہتاب کو دیکھ کر اس کے ذہن میں اس کے آگے جھکنے کا خیال پیدا ہوتا تھا، نہ کہ اس کو فتح کرنے کا، ان مظاہر فطرت کو معبود سمجھ لینے کا عقیدہ ان کو مسخر کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔
ساتویں صدی عیسوی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام کے ذریعہ وہ انقلاب آیا جس نے شرک کو مغلوب اور توحید کو غالب فکر بنا دیا۔ یہ انقلاب اولا عرب میں آیا اس کے بعد ایشیاء افریقہ میں سفر کرتا ہوا یورپ پہنچا اور بحر اٹلانٹک کو پار کرتا ہوا امریکہ میں داخل ہو گیا۔
Books