Free shipping for all orders over 1299
0
0
0
قیادت کے لیے اعلیٰ بصیرت چاہیے
7 Views


مفتی محمد رضا قادری نقشبندی مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ

قیادت عربی زبان کا لفظ ہے جو قود سے ماخوذ ہے ، اس کا معنی ہے آگے کی طرف سے کھینچنا، لشکر کی قیادت کرنا (النجم الوسیط) اور قائد وہ ہوتا ہے جو کسی کو کھینچ کر آگے کی طرف لے جائے۔

قیادت (Leadership) کیا ہے؟ قیادت، نفس واقعہ کے اعتبار سے اپنے آپ میں ایک غیر معمولی عمل ہے۔ قیادت ، انتہائی مخلصانہ جدو جہد (Struggle) کا نام ہے جس کے لیے قائد کو آخری حد تک بے لوث ہونے کی ضرورت ہے۔ قیادت سے قوموں کی تقدیریں بنتی یا بگڑتی ہیں۔

صحیح قیادت ، قوم یا ملک کو تعمیر کی راہ پر لے جاتی ہے ، جب کہ غلط قیادت تخریب کی راہ پر۔ قیادت کا معاملہ تمام تر اس امر پر مختصر ہے کہ قائد اپنی قوم یا ملک کے لیے کس حد تک قربانی دے سکتا ہے، کیوں کہ قائد کو مخالف ہواؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور طوفانوں سے ٹکرانا ہوتا

کسی بھی قوم کے لیے قائد کا انتخاب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس انتخاب (Choice) سے لوگوں کی اجتماعی سوچ کا پتہ چلتا ہے۔ قائد کا صیح انتخاب اسے اعلی کا میابی تک پہنچاتا ہے اور غلط انتخاب (Choice) پوری قوم کو ناکامی کی طرف لے جاتا ہے، قائد کی اعلی بصیرت جنگ کی شکست کو فتح میں تبدیل کر سکتی ہے جب کہ ناقص بصیرت اسے شکست سے دو چار کر سکتی ہے۔

قائد اپنی قوم کا نمائندہ اور اس کا معمار ہوتا ہے۔ قائد کے ایک صحیح اقدام سے کبھی قوم کی تقدیر جاگ اٹھتی ہے اور کبھی اس کی معمولی سی لغزش پوری سوسائٹی (Society) کے لیے برسوں کی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

قائد، دور اندیش ہوتا ہے، وہ آج کو نہیں بلکہ آج سے پچاس سو سال آگے تک دیکھتا ہے۔ عام حالتوں میں انسان صرف دو آنکھوں کا استعمال کرتا ہے لیکن قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ باطنی آنکھیں (دل، دماغ) جو اللہ تعالی نے اسے بصیرت کے لیے اضافی طور پر عطا فرمائی ہیں ان کا بھی استعمال کرے۔

قائد اپنی قوم کا سفیر ہوتا ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھ والا ہو، حالات پر اس کی گہری نظر ہو، وہ اپنے گردو پیش کے بارے میں اس قدر حساس ہو کہ سطح سمندر پر دکھائی دینے والی لکیروں سے کسی خاموش طوفان بلا خیز کی آمد کا اندازہ کر سکے۔

قیادت کے لیے غیر معمولی دانشمندی، غایت درجہ تدبر، اور جرات و بسالت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں قائد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مضبوط قوت ارادی کا مالک ہو اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایک اچھا سائیکولوجسٹ (Psychologist) ماہر نفسیات ہو تا کہ وہ لوگوں کے عمل اور رد عمل کے اسباب سے بر وقت خبر دار ہو سکے ۔

ان لوگوں کا شمار مردہ قوموں میں ہوتا ہے جن کے پاس کوئی قائد نہیں ہوتا، بے قائد قوم کی مثال اس کے بچے جیسی ہے جسے ماں ہلکی سی ضرب کے بعد تھپکیاں دے دے کر سلا دیتی ہے اور اس سادہ لوح انسان کی طرح ہے جسے جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے اپنے مقصد کے لیے استعمال کر لیتا ہے۔ الکشن کے زمانے میں سبز باغات دکھا کر ان کے ووٹ حاصل کرتا ہے اور ایوان حکومت میں پہنچنے کے بعد اپنے تمام وعدے فراموش کر بیٹھتا ہے۔

آج کا معاشرہ (Muslim Society) اس ابتر حالت کا شکار ہے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قیادت کے نام پر ہمارے یہاں ہزاروں قائدین ہیں، خواہ وہ مذہبی میدان ہو یا سیاسی میدان، ہر دو میدانوں میں خود ساختہ نا اہل اور بے بصیرت قائدین کی کمی نہیں اور ان نام نہاد قائدین کی غیر ذمہ دارانہ قیادت اور نا اہلی کی وجہ سے مذہبی و سیاسی دونوں سطحوں پر نقصان کا جو بوجھ امت مسلمہ کو اٹھانا پڑ رہا ہے وہ ناقابل تلافی ہے ، جس کے تدارک کے لیے ایک صدی بھی نا کافی ہے۔

Always@NovaAN94509

Related Posts
Articles
کرسمس (میلاد مسیح علیہ السلام) اور ہماری ذمے داریاں

کرسمس قریب ہے۔ پوری عیسائی دنیا کرسمس کی تیاریوں میں مصروف…

Articles
بانی درس نظامی

بانی درس نظامی نام و نسب: استاذ الہند مولانا نظام الدین…

Articles
کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب

تعارف:کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب استاذ العلما مفتی نسیم…

Articles
Ashrafia examination papers

Select the year… 2026 2025 2024 2023 2022

Post a comment

Your email address will not be published.

Loading...