Articles

اسلام اور جدید میڈیکل سائنس

مفتی محمد رضا قادری نقشبندی مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ

دور جدید میں مسلمان ، نت نئے انکشافات اور میڈیکل سائنس کے میدان میں غیر مسلموں کے غیر معمولی کارناموں سے مرعوب نظر آتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عصر حاضر کی تمام تر طبی و سرجری دریافت غیر مسلم اطبا کی بدولت ہوئی ہے ، جب کہ اسلام اور مسلمانوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ ایسی فکر کے حاملین سخت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں۔ ایسا ذہن رکھنے والے انسان کے اندر یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ اسلام میں عصر جدید کے تقاضوں کو حتمی شکل میں پورا کرنے کی صلاحیت نہیں ۔ حالاں کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں پر یہ بات مخفی نہیں کہ میڈیکل سائنس کے میدان میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ جدید طبی تحقیقات کی تمام تر عمارتیں اسلامی اطبا کے ذریعہ فراہم کردہ اساس پر کھڑی ہوئی ہیں۔ جس کو مزید اضافے کے ساتھ آج نئی نئی شکلیں دے دی گئی ہیں۔

ذیل میں احادیث کریمہ کے حوالے سے طب اور سرجری سے متعلق کچھ اصول پیش ہیں:

بخار کا علاج: انسانی جسم عموما ١٠٦،١٠٥ درجہ فارن ہائٹ سے زیادہ ٹمپریچر کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ انسانی جسم کا درجہ حرارت اگر اس حد سے تجاوز کر جائے تو صرف اس کی حدت کی زیادتی سے بھی موت واقع ہو سکتی ہے، ایسے وقت میں ضروری ہے کہ اس کے درجہ حرارت کو اعتدال پر لایا جائے۔

طب جدید، جسے آج میڈیکل سائنس کے نام سے جانا جاتا ہے اس کی رو سے ایسے مریض کے جسم کو پہلے برف کے پانی سے بھگو دینا چاہیے اور جسم پر گیلے کپڑے کی پٹیاں رکھنی چاہیے تاکہ اس کی برودت کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت کسی قدر اعتدال پر آجائے

اب آئیے اس باب میں رسول گرامی وقار ﷺ کا طبابت سے لبریز ارشاد ملاحظہ کریں: ” ”الْحُمّٰى مِن فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ بخار“ جہنم کی لپیٹ سے ہے لہذا اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (بخاری، کتاب الطب ، ج:۲، ص: ۸۵۲)

إِنَّ شِدَّةَ الْحُمّٰى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ۔

بخار کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے اس لیے اس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ۔

پانی سے بخار کا علاج آج فطری طریقہ علاج بن چکا ہے جسے شہر و دیہات ہر جگہ اختیار کیا جا رہا ہے میڈیکل سائنس کا یہ علاج دراصل فرمان نبوی سے ماخوذ ہے۔

آپریشن کے ذریعہ علاج: کبھی کبھی مرض کی نوعیت اس قدر مشکل ہو جاتی ہے کہ عام علاج سے افاقہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپریشن کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جسے آج جراحی کہتے ہیں۔ عصر جدید کا انسان سمجھتا ہے کہ اس طریقہ علاج کی دریافت ہم نے کی ہے، اور صدیوں کی تحقیق کے بعد ہم نے اسے معلوم کیا ہے ، اسلام کا اس میں کوئی حصہ نہیں جب کہ سچ یہ ہے کہ اس کا موجد بھی مسلمان ہے۔ سب سے پہلے طبیب انسانیت حضرت محمد مصطفی ﷺ نے آپریشن کے ذریعہ علاج کی بنیاد رکھی۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ طبیب انسانیت کا معمول بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے دونوں مونڈھوں اور اخدعین (گردن کے دونوں طرف کی رگوں) کے بیچ میں تین سنگی کھنچوائے ۔ (سنن ابی داؤد ۲ ص ١٨٤) عن ابن عباس قال: احتجم النبي صلى الله عليه و سلم و هو صائم ۔ نبی کریم ﷺ نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (صحیح البخاری، ج۲، ص ۸٤٩)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *