مسلم معاشرہ میں طلاق کے بڑھتے رجحانات

مفتی محمد رضا قادری نقشبندی مصباحی
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
آج کا مسلمان ہر موڑ پر بے اعتدالی کا شکار ہے۔ ایک اعتدال پسند زندگی کا تصور ان کے یہاں مفقود ہوتا جارہا ہے۔ عائلی سطح پر آج کا مسلمان سب سے زیادہ پریشان ہے۔ باپ، بیٹے، بھائی، بہن اور بیوی و شوہر کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا گھر جہنم کا ایندھن بن چکا ہے۔ اخلاقی قدروں کی پامالی کی انتہانہ رہی۔ بے شمار معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ جس نے خاندانوں اور قبیلوں کو بے چین کر رکھا ہے مسلم معاشرہ میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحانات بھی ہے۔ طلاق جس کی شرعی حیثیت اسلام میں ابغض مباحات کی ہے۔ اس کو مسلمانوں نے ایسر مباحات سمجھ لیا ہے۔ یعنی جائز امور میں سب سے آسان، یہ ایک تشویش ناک پہلو ہے جس کے اسباب اور تدارک کے ذرائع پر غور کرنا وقت کا جبری تقاضا بن چکا ہے۔ طلاق سے نہ صرف یہ کہ ایک فرد متاثر ہوتا ہے، بلکہ دونوں خاندان یقینی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور فیملی کے درمیان ہمیشہ کے لیے ناخوش گوار تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ عام حالات میں یہ زیادتی مردوں کی طرف سے زیادہ پائی جاتی ہے ، جو آگے چل کر دشمنی میں تبدیل ہو کر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
اسلام نے امت مسلمہ کو ہمیشہ منفی سوچ (Negative Thinking) سے بچایا ہے اور مثبت سوچ (Possitive Thinking) کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اور ہمیشہ اعتدال کی حالت میں رہنے کی تلقین کی ہے: وَجَعَلْنٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ اور ہم نے تمہیں اعتدال پسند امت بنایا تاکہ لوگوں پر گواہ ہو جاؤ۔ امن کا تقاضا یہ ہے کہ مشتعل کرنے والے حالات میں بھی مومن کی سوچ اور ان کا عمل حد سے تجاوز نہ کرے۔ نکاح جوڑنے کا عمل ہے اور طلاق توڑنے کا عمل نکاح تعمیری و مثبت فکر کا غماز ہوتا ہے اور طلاق عموما تخریبی اور منفی فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ نکاح اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اسے ختم کر دیا جائے بلکہ اس سے خاندان، سماج اور ملک کی تعمیر کی جاتی ہے۔
اسباب: سو فیصدی حالات کا ناموافق ہونا ہے۔ غصہ، اشتعال، مایوسی، بزدلی، احساس محرومی، حرص و طمع یہی وہ چیزیں جو اکثر حالات میں انسان کو طلاق جیسی مبغوض امر کے ارتکاب پر مجبور کرتی ہیں۔ کوئی بھی انسان خوشی کی حالت میں طلاق نہیں دیتا ہے، بلکہ طلاق ہمیشہ عمل یا رد عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ غلطی تو انسان سے ہی ہوتی ہے۔ فرشتے اس سے مستثنی ہیں۔ شوہر سمجھنے لگتا ہے کہ میری زوجہ کے اندر صد فیصد فرشتوں جیسی صفات پیدا ہو جائیں اور اس سے کوئی غلطی صادر ہی نہ ہو لہٰذا ذرا بھی خلاف مزاج کوئی بات سامنے آئی فوراً اس پر جذباتی ہو کر مشتعل ہو گئے اور ایک دو تین گولیاں داغ دیں۔ کبھی مرد اس خوش فہمی میں جیتا ہے کہ سامان جہیز میں یہ یہ سامان ملیں گے اور جب سامان جہیز اس کی خواہش کے مطابق نہ ملے تو آتش انتقام بھڑک اٹھتی ہے اور احساس محرومی کے تحت جذبہ انتقام میں طلاق کی حد تک پہنچ جاتا ہے جو انتہائی غیر سنجیدہ اور بزدلانہ عمل ہے۔ اسلام نے عورت کے گھر والوں پر اسباب جہیز فراہم کرنا لازم نہیں کیا ہے بلکہ آزاد چھوڑا گیا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو جتنا چاہے دے۔ اگر کوئی اپنی بیٹی کو سامان جہیز میں کچھ بھی نہیں دیتا پھر بھی مرد کے گھر والوں کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہی کیا کم ہے کہ وہ اپنی نور نظر کو جسے اپنی آغوش شفقت میں پال پوس کر جوانی کی دہلیز تک پہنچایا جدا کر کے تمہارے گھر کی کنیز بنا رہا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نکاح کے بعد مرد کو معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی حسن و جمال، علم و فضل کے اعتبار سے اس سے کمتر ہے جب کہ اس کے ذہن میں ایک حسین و جمیل، تعلیم یافتہ دوشیزہ کی تصویر بیٹھی ہوئی ہے۔ اب وہ اسے اپنی طبیعت کے موافق نہ پاکر طلاق کا ارادہ کر لیتا ہے۔ کم ہی مرد اس راز سے واقف ہیں کہ حسن و جمال یا علم و فضل یہ اضافی امر ہیں بعض میں زیادہ اور بعض میں کم ہوتا ہے۔ انسان اس دنیا میں ہر چیز اپنی خواہش کے مطابق نہیں پا سکتا، یہ امکان صرف جنت کی زندگی کے لیے خاص ہے۔ دنیا کی زندگی میں اکثر واقعات توقع کے خلاف واقع ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں کامیابی کا راز صرف صبر و قناعت ہے۔ اور اللہ کی ذات پر کامل توکل کر کے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے جو بھی فیصلہ فرمایا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے صحیح ہے ، اگر چہ بظاہر اسے صحیح معلوم نہ ہوتا ہو۔
ساس اور بہو میں تنازع: بسا اوقات ساس اور بہو کے درمیان تنازعات بھی طلاق کا سبب بن جاتے ہیں۔ جب کوئی بہو میکے سے بیاہ کر سسرال کو آتی ہے تو سب سے زیادہ سابقہ اسے ساس سے پڑتا ہے۔ کام کاج کے معاملات میں ساس اپنے ذہن میں یہ تصور بٹھائے ہوتی ہے کہ آنے والی بہو انتہائی تجربہ کار ، ہوشیار ، خدمت گزار اور اطاعت شعار ہوگی۔ اس سے کسی معاملے میں غلطی سرزد نہیں ہو سکتی، جب کہ آنے والی بہو اپنی عمر علم اور تجربے کے اعتبار سے انتہائی نا مکمل ہوتی ہے۔ ابھی وہ پچاس سال کی عمر کو نہیں پہنچی ہے کہ پچاس سالہ خاتون جیسا تجربہ ہو، اس آئینہ شعور و آگہی سے قدم قدم پر غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، گھر کے معاملات کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ ابتدا سے ہی اسے مختلف امور کے انجام دہی کی عادت نہیں ہوتی ہے ، عادت بنانی پڑتی ہے۔ اب ساس ہے جو ایک پیمانہ لیے کھڑی ہوئی ہے کہ ذرا بھی اس پیمانہ سے انحراف ہوا تو عذاب و تشدد بہو کے لیے لازم ہو جائے گا۔ یہاں ساس کو تحمل و بردباری سے کام لے کر بہو کو و تمام کاموں کی ٹرینینگ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے امور خانہ داری میں ہو رہی غلطیوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس سے انتقام لینے کی۔
بیٹی اور بہو میں فرق: آج جو خاتون کسی کے گھر میں بیٹی کا درجہ لیے ہوتی ہے آخرش وہ کسی گھر میں بہو کی حیثیت بھی حاصل کرے گی۔ شادی شدہ خاتون ایک اعتبار سے بہو اور دوسرے اعتبار سے بیٹی ہوتی ہے۔ ساس کے لیے یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ وہ بہو کو بیٹی کا مقام دے پاتی ہے یا نہیں، اگر ایک چارپائی پر ساس بیٹھی ہو اور اس پر اس کی بیٹی اگر اس کے سامنے لیٹ جاۓ، تو ماں کو اس سے کوئی ناگواری نہیں ہوتی ہے مگر بیٹی کی جگہ اگر بہو آ کر لیٹ جائے تو ساس مشتعل ہو جاتی ہے اور بگڑنے لگتی ہے۔ وہ اس کو اپنے لیے موت وحیات اور عزت وذلت کا مسئلہ بنا لیتی ہے۔ نظریات میں اس فرق کی بنا پر ساس اور بہو میں ہم آہنگی اور محبت کی فضا قائم نہیں ہو پاتی۔
عجیب جاہلانہ رسم سماج میں جڑ پکڑ چکی ہے کہ ساس پہلے کھانا کھائے گی اور بہو بعد میں اگر بہو نے پہلے کھانا تناول کر لیا تو ساس چراغ پا جاتی ہے۔ پھر ایک ساتھ بیٹھ کر اکل و شرب کا ماحول نہ ہونا بھی آپس میں کشیدگی کا باعث بنتا ہے۔ اب ساس اپنے بیٹے سے بہو کی بے جا شکایتوں میں لگ جاتی ہے اور بہو بھی مشتعل ہو کر جواب الجواب شروع کر دیتی ہے۔ رفتہ رفتہ گھر کا اندرونی ماحول کشیدہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کی انتہا زن و شوہر کے درمیان فرقت پر ہوتی ہے۔ ایسے جاہلانہ سوچ اور رسوم ہمارے سماج کے لیے سم قاتل کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس سے بچنے اور بچانے کی ضرورت ہے۔
میکے والوں کی طرف سے بیٹی کی حوصلہ افزائی: بعض اوقات لڑکی کے گھر والے بھی طلاق کی راہ کو ہموار کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ اپنی بیٹی کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا، تنبیہ نہ کرنا، بلکہ اس کی پشت پناہی کرنا اس کے حوصلوں کو بڑھاتا ہے۔ ایسے موقع پر میکے والوں کو چاہیے کہ وہ بیٹی سے صاف کہ دیں کہ یہ تیرا گھر نہیں ہے بلکہ تیرا حقیقی گھر سسرال ہی ہے۔ اب تمہیں ہی وہاں کے حالات کو موافق بنانا ہوگا۔ سسر ، ساس اور شوہر کی خدمت واطاعت میں ہی تمہاری کامیابی مضمر ہے۔ ان کی رضا حاصل کرو اور ان کی اطاعت شعاری میں زندگی گزارو۔ میکے والوں کی طرف سے بے جا امداد، حوصلہ افزائی یہ سب لڑکی کے لیے بڑی ہی نقصان دہ ہے۔
Books